5 اکتوبر 2011 - 20:30

پاکستان نے افغانستان کے اس الزام کي ترديد کي ہے کہ اس نے شہيد رباني قتل کيس کي تحقيقات کرنے والے تفتيش کاروں کے ساتھ تعاون سے انکار کرديا ہے -

ابنا: پاکستان کي وزارت خارجہ کے ايک ترجمان نے ايکسپريس ٹي وي چينل سے گفتگو ميں کہا کہ اسلام آباد وزير اعظم يوسف رضا گيلاني کے دورہ افغانستان کے موقعے پر دي جانے والي تجاويز کي ہنوز پابند ہےـ

يہ بيان ايسے وقت آيا ہے کہ جب افغانستان کے حکام امن کونسل کے سربراہ شہيد برہان الدين رباني کے قتل کے سلسلے ميں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہيں ـحامد کرزئي کے قومي سلامتي سے متعلق امور کے مشير نے کہا کہ پاکستان افغانستان ميں بد امني پھيلا رہا ہےـ

رنگين دادفر سپنتا نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں ليتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ميں ہونے والے حملوں کي منصوبہ بندي پاکستان ميں ہوتي ہے اور افغانستان ميں بڑھتے عدم استحکام کے لئے اسلام آباد ذمہ دار ہےـ دادفر سپنتا نے کہا کہ پاکستان کي حکومت اور فوج پر غير ملکي دباؤ اور بڑھنا چاہئےـپاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کي سلامتي کو خطرے ميں ڈالنے والي دہشت گردي سے نمٹنے کا طريقہ يہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درميان سيکورٹي اور انٹيليجنس تعاون ہو کيونکہ اگر افغانتسان اور پاکستان کے درميان اختلاف بڑھا تو اس سے دہشت گرد گروہ اور امريکہ سميت مغربي ممالک فائدہ اٹھائيں گے-...........

/169